بنگلورو 2/جنوری (ایس او نیوز) بنگلورکے نئے سٹی پولیس کمشنر پروین سود نے اپنی پہلی پریس کانفرنس میں نئے احکامات جاری کرتے ہوئے بتایا کہ آئندہ پاسپورٹ سے متعلقہ کاغذات یاکسی بھی قسم کی دستاویزات کا معائنہ کرنے کے لئے پولیس کو صرف 15دن کی مہلت حاصل رہے گی۔ اس کے علاوہ ٹریفک پولیس کے ذریعے سڑک کنارے گاڑیاں روک کر کاغذات کا معائنہ کرنے پر بھی روک لگادی گئی ہے۔
مسٹر پروین سود نے کہا کہ ایک عرصے سے پبلک کو پاسپورٹ اور ٹریفک کے بڑھتے ہوئے مسائل سے ہونے والی مشکلات سے چھٹکارہ دینے کے لئے نئے احکام وضع کیے گئے ہیں۔انہو ں نے کہا کہ شہر میں ٹریفک کے نظام میں تبدیلی اور سدھار ان کی ترجیحات میں شامل ہے۔صرف گاڑی چلانے کے دوران غیر قانونی رویہ اختیار کرنے پر جرمانہ لگانے سے ٹریفک جام اور دوسرے مسائل حل نہیں ہونگے۔ اس کے لئے عوام میں بیداری لانے کی ضرورت ہے۔اور اس ضمن میں اقدامات کیے جائیں گے۔
موٹر سواروں کو تکلیف نہ دو: پولیس کمشنر نے پولیس افسران کے نام پیغام دیتے ہوئے کہا کہ موٹروں کی سواری کرنے والوں کو خواہ مخواہ تکلیف نہ دو۔ایسا کوئی مطالبہ نہیں ہے کہ ہر ماہ ایک مخصوص تعداد میں ٹریفک کے قوانین توڑنے کے معاملات درج کیے جائیں۔ ٹارگیٹ پورا کرنے کے لئے سواریوں کو روک کر کاغذات کی جانچ کرنے کی کارروائی پر روک لگنی چاہیے۔ صرف قانونی خلاف ورزی کرنے والی گاڑیوں کو روکا جائے اور اس کے خلاف کارروائی کی جائے۔ اگر ہر موٹر گاڑی کو روک کر جانچ کی جائے گی تو ممکن ہے کہ ڈرائیونگ لائسنس کے بغیر گاڑی چلانے والے ایک دو معاملات مل جائیں، لیکن اس سے 90%عوام کو تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے ہیلمیٹ کے بغیر گاڑی چلانے اور ڈرائیونگ کرتے ہوئے موبائل فون استعمال کرنے کے معاملات نظر میں آنے پر ہی ایسی گاڑیوں کو روک کربغیر کسی جھجھک کے قانونی کارروائی کی جائے۔
پاسپورٹ میلہ: مسٹر پروین سود نے بتایا کہ پاسپورٹ اور دوسرے معاملات سے متعلقہ دستاویزات کے معائنے میں پولیس اہلکاروں کی طرف سے کوتاہی کا الزام لگتا رہتا ہے۔ اس لئے اب اس کارروائی کے لئے پندرہ دنوں کی حد مقرر کی گئی ہے جو آگے چل کر 10دنوں تک محدود کردی جائے گی۔ 8جنوری کوصبح دس بجے سے ایک بجے تک تمام پولیس تھانوں میں پاسپورٹ میلہ کا اہتمام کیا جائے گا۔اور جتنی پاسپورٹ کی درخواستیں معائنے کے لئے رُکی ہوئی ہیں ان پر کارروائی پوری کردی جائے گی۔
عوام کو راحت دلانے کے اقدامات :نئے پولیس کمشنر نے بتایا کہ پولیس تھانوں میں خواتین، بچوں اور بزرگ شہریوں کے معاملات پر ترجیحی توجہ دی جائے گی۔ مجرمانہ سرگرمیوں پر قابو پانے کے لئے پولیس گشت کو مزید چست کردیا جائے گا۔ کنڑول روم اور ہیلپ لائن کی سہولتوں کو مزید عوام دوست بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس پر یہ بھی الزام ہے کہ فیس بک، ٹوئیٹر اور دیگر سوشیل میڈیا پلیٹ فارم سے آنے والی شکایتوں پر ہی زیادہ سنجیدگی سے دھیان دیا جاتاہے۔ جبکہ آج کے ماڈرن زمانے میں سوشیل میڈیا ایک بہت ہی اہم ذریعہ بن گیا ہے۔اس کے باوجود اپنے مسائل لے کرذاتی طورپر پولیس اسٹیشن پہنچنے والے شہریوں کے معاملات کو بھی پولیس والے پوری سنجیدگی سے لیتے ہیں۔اور آئندہ بھی ان کو اہمیت دی جائے گی۔مسٹر پروین سود نے کہا کہ عوام اپنی شکایات کسی بھی پولیس اسٹیشن میں درج کرسکتے ہیں۔ پولیس والے انہیں اپنے علاقے سے باہر کا معاملہ کہہ کر واپس بھیج نہیں سکیں گے۔انہوں نے وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں کوتاہی کے مرتکب کرنے والے کو معطل کر دیا جائے گا۔